درزی ہمارے معاشرے کا ایک اہم مگر نظر انداز کیا جانے والا کردار ہے۔
درزی ہمارے معاشرے کا ایک اہم مگر نظر انداز کیا جانے والا کردار ہے۔ کپڑے انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں، اور ان کپڑوں کو خوبصورت اور قابلِ استعمال بنانے میں درزی کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود درزیوں کے حالات اکثر تسلی بخش نہیں ہوتے۔ وہ صبح سے شام تک محنت کرتے ہیں، مگر ان کی آمدنی اور سماجی حیثیت وہ مقام حاصل نہیں کر پاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
سب سے پہلے اگر معاشی حالات کی بات کی جائے تو اکثر درزی چھوٹی دکانوں یا گھروں میں کام کرتے ہیں۔ بڑے برانڈز اور فیشن ہاؤسز کے آنے کے بعد روایتی درزیوں کا کام متاثر ہوا ہے۔ لوگ تیار شدہ کپڑوں کو ترجیح دینے لگے ہیں جس کی وجہ سے عام درزی کے پاس کام کم ہو گیا ہے۔ خاص طور پر عام دنوں میں کام نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے، جبکہ عید، شادیوں یا تہواروں کے موسم میں کام کا بے حد دباؤ ہوتا ہے۔ اس غیر متوازن آمدنی کی وجہ سے ان کے لیے گھر کا بجٹ سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف مہنگائی نے بھی درزیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دکان کا کرایہ، بجلی کے بل، سلائی مشینوں کی مرمت اور
دیگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، مگر سلائی کی اجرت اسی رفتار سے نہیں بڑھتی۔ اکثر گاہک زیادہ معاوضہ دینے سے ہچکچاتے ہیں، حالانکہ ایک لباس کو تیار کرنے میں کئی گھنٹوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی درزی ایسے بھی ہیں جو بڑے شہروں میں فیکٹریوں یا ورکشاپس میں کام کرتے ہیں، جہاں انہیں طویل اوقات کار اور کم تنخواہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سماجی طور پر بھی درزیوں کو وہ عزت اور مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حق دار ہیں۔ حالانکہ وہ لوگوں کی خوشیوں، شادیوں اور تہواروں کا حصہ بنتے ہیں، مگر انہیں اکثر ایک عام مزدور سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان نسل اس پیشے کو اپنانے میں کم دلچسپی رکھتی ہے، کیونکہ وہ اسے کم آمدنی اور محدود ترقی کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہنر مند درزیوں کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔
حکومت اور سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ درزیوں کے لیے فنی تربیت، آسان قرضوں اور جدید مشینری کی فراہمی کے مواقع فراہم کریں۔ اگر انہیں جدید فیشن کے رجحانات اور کاروباری مہارتوں کی تربیت دی جائے تو وہ اپنے کام کو بہتر بنا کر زیادہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے کو بھی چاہیے کہ وہ ہنر مند افراد کی قدر کرے اور ان کی محنت کا مناسب معاوضہ ادا کرے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ درزی ہمارے معاشرے کا خاموش معمار ہے جو کپڑے کے ایک سادہ ٹکڑے کو خوبصورت لباس میں بدل دیتا ہے۔ اگر ہم ان کے حالات بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کریں تو نہ صرف ایک ہنر محفوظ ہوگا بلکہ کئی خاندانوں کا مستقبل بھی روشن ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment